Welcome to JADPP Vison & Mission JADPP Manifesto JADPP Constitution JADPP News Channel JADPP Social Media JADPP Membership Working Committees JADPP Slogans JADPP Downloads Quran with Translation

JADPP Manifesto 

JADPP Manifesto for real revolution

عوامی منشور برائے حقیقی انقلاب

Assalam-o-Alaikum:
  1. We do not only claim that we will solve Pakistan's problems but we are presenting solution of problems. Our goal is to to eliminate problems and we are committed to become Pakistan a developed country. So, first of all we will establish strong foundations to development. We are offering the system is based on two things, federal institutions from the top level and Union Council from lower level.
  2. We believe that people know the solution of problems, so which people are agreeing with us we request them to support and help us. If anyone claims that is not the solution then he will have to present alternative solution.
اسلام و علیکم:
  1. ہم صرف یہ دعوی نہیں کر رہے کہ ہم پاکستان کے مسائل حل کریں گے بلکہ مسائل کیسے حل کریں گے یہ بھی بتا رہے ہیں ۔مسائل کو جڑ سے ختم کرنا ہمارا  مقصد ہے۔ہم ملک کو ترقی یافتہ بنانے کا عزم کئے ہوئے ہیں اس لئے سب سے پہلے ترقی  کرنے کی بنیادیں مضبوط کریں گے۔ ہم جو نظام پیش کر رہے ہیں اس میں دو چیزوں کو بنیاد بنایا گیا ہے اوپر لیول سے ملکی ادارے اور نیچے لیول سے یونین کونسل۔
  2. ہمیں یقین ہے کہ عوام  کو علم ہے  کہ مسائل اور ان کے حل کیا ہیں تو جو لوگ ہمارے بیان کردہ مسائل کے حل سے متفق ہیں ہم ان سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ اس منشور کے عملدرآمد کیلئے ہماری مدد و حمایت کریں ۔اگر کوئی یہ دعوی کرے کہ یہ مسائل کا حل نہیں تو اسے خود متبادل حل پیش کرنا ہو گا۔

Elimination of Poverty & Unemployment

غریبی اور بے روزگاری کا خاتمہ

  1. In the first phase, at least one factory will be established in each national constituency. In the second phase, at least one factory will be established in each union council. Factory will be based on the artisans in those areas. We will sell & buy to other factories too. Every inventor will be helped from us in all possible manners. Any other factory can be chosen for an item by the party.
  2. Seven partners of ten percent share each for every factory will be given priority. A borrower on interest from the bank will not be a partner in any factory. Thirty percent A loan from the bank to the borrower will not be made partner. Justice and Development Party Pakistan will have thirty percent of the share of each factory. JADPP working committee of the area will be the administrator of the factory; partners will also be the member of that committee. In any case, decision of JADPP Central Working Committee will be final.
  3. ?Free school, free hospital, free hall for events, free transport, shopping center, general store, mosque and madrassa will be established adjacent to each factory; to which every partner including party will support financially. Other people may be called for help in emergency or in a need.
  4. ?A factory product will be sent to general store adjacent to other factories. For the production of an item allotment of one factory will be preferred. The products more than need may be exported.
  1. پہلے مرحلے میں ہر قومی حلقے میں کم از کم ایک فیکٹری بنائیں گے۔ دوسرے مرحلے میں ہر یونین کونسل میں کم از کم ایک فیکٹری بنائیں گے۔  ہر علاقے میں جس ہنر مندوں کی تعداد زیادہ ہو گی وہاں اسی ہنر کی فیکٹری بنائی جائے گی ۔دوسری فیکٹریوں سے بھی خریدوفروخت ہو گی۔ ہر موجد کی ہر ممکن مدد کی جائے گی۔ پارٹی دوسری فیکٹریوں کو بھی کسی آئیٹم کیلئے چن سکتی ہے۔ 
  2. ہر فیکٹری میں دس فیصد شیئرزکے سات افراد کو ترجیح دی جائے گی۔ بینک سے سود پر قرض لینے والے فرد کو پارٹنر نہیں بنایا جائے گا۔ ہر فیکٹری کے تیس فیصد شیئرز جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی پاکستان کےپاس ہونگے۔ پارٹی کی ورکنگ کمیٹی علاقے کی فیکٹری کی منتظم ہو گی اورپارٹنر افراد بھی کمیٹی کے رکن ہونگے۔ کسی بھی معاملہ میں پارٹی کی سنٹرل ورکنگ کمیٹی کا فیصلہ حتمی ہو گا ۔
  3. ہر فیکٹری سے متصل فری سکول ، فری ہسپتال،فری ہال برائے تقریبات،  فری ٹرانسپورٹ، خریدوفروخت  سنٹر، جنرل سٹور، جامع مسجد و مدرسہ،  ویلفیئرسروسز کا انتظام کیا جائے گا جس کی  ہر پارٹنر حسب توفیق مدد کرے گا بشمول پارٹی۔ بضرورت عوام سے بھی مدد کی اپیل کی جائے گی۔ 
  4. ایک فیکٹری میں تیار ہونے والی اشیاء ملک کے دوسرے علاقوں میں  موجود فیکٹری سے متصل جنرل سٹور میں بھیجی جائیں گی۔ ایک آئیٹم کیلئے ایک فیکٹری کو مختص کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔ ملک میں ضرورت سے زائد ہونے پر ہی ایکسپورٹ کی جائے گی۔ 

 

Elimination of Electricity Load-Shedding

بجلی کی لوڈشیڈنگ کا خاتمہ

  1. We will produce electricity from water instead of expensive petrol.  Kalabagh dam will be completed on urgent basis. We will join rivers of Pakistan and dams will be constructed  where two rivers or canals will meet. Electricity production will be enough and there is no load-shedding of electricity insha Allah. We will make a canal below the river level to avoid flood disaster.  Electricity may be produced privately.
  2. A central river will be build which will joins other rivers; it will slow down the water flow without stopping. Central river will be build from Kotla, Karniwala, Kurri, Saydpur, Tilakpur Bhagowal, Zafarwal, Damala, Galotian, Manguwal, Rasul, Malikwal, Qadarabad, Maraliwala, Mahey Chatha, Manhala, Rhoda, Orara, Aulakh awtar, Ahmedabad, Jhawarian, Piplan, Darya khan, Kot khan, Samundari, Pakpattan, Burewala, Mian Channu, Layyah, Kot addu, Hasilpur, Bajnoot, Sadiqabad, Gaddu, Dadrh, Dadu, Bella, Turbat, Gwadar to the Arabian Sea. On both sides of the river highway road and railway line will be built.
  3. This project will have several benefits; water level will be up and will be readily available for drinking as well as agriculture. Due to increase the amount of water the production of electricity would be enough and electricity load-shedding will be ended.  Small ships would be reach at Sialkot, Lahore or other cities and Pakistanís development will be accelerated.  Transport costs will be reduced. It will be the prevention from floodís disaster which effect the human and their assets.
  1. ?مہنگے پیٹرول کی بجائے پانی سے بجلی تیار کریں گے ۔ کالا باغ ڈیم ہنگامی طور پر مکمل کریں گےملکی دریا آپس میں ملائیں گے اور جہاں دو دریا ملیں یا نہر و دریا ملیں گےوہاں ڈیم بنائیں گےبجلی کی پیداوار اتنی زیادہ ہو گی کہ بجلی کی کمی نہیں ہو گی انشاء اللہ۔سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچنے کیلئے ایک مرکزی نالہ دریا سے نچلی سطح پر بنائیں گے۔ بجلی نجی طور پر بھی تیار کرنے کی اجازت ہو گی۔
  2. ?ایک مرکزی دریابنایا جائے گا جو کئی دریاؤں کو آپس میں ملائے گا ۔پانی کی رفتار آہستہ ہو گی مگر رکے بغیر بہے گا۔مرکزی دریا کوٹلہ ، کرنیوالہ، کری ، سید پور، تلک پور، بھاگووال،ظفروال، دمالہ، گلوٹیاں، منگووال، رسول ، ملک وال، قادر آباد، مرالی والا، ماہے چٹھہ، منہالہ، روڈا، اورارہ، اولکھ اوتار،احمد آباد، جھاوریاں، پپلاں ، دریا خان، کوٹ خان، سمندری،پاکپتن ، بورے والا، میاں چنوں ، لیہ ، کوٹ ادو، حاصل پور، بجنوٹ، صادق آباد، گڈو،دادڑھ،دادو، بیلا، تربت، گوادر سےگذر کر بحیرہ عرب میں گرے گا۔ مرکزی دریا کے دونوں طرف ہائی وے روڈ اور ریلوے لائن تعمیر کی جائے گی۔
  3. ?اس منصوبہ سے کئی فائدے حاصل ہونگے پانی کا لیول اوپر آئے گا  جو پینے کیلئے اورزراعت کیلئے بآسانی میسر ہو گا۔ پانی کی مقدار بڑھنے سے بجلی کی پیداوار زیادہ ہو گی اورلوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گی۔ چھوٹے بحری جہاز سیالکوٹ ، لاہور سمیت کئی شہروں تک پہنچ پائیں گےاور ملکی ترقی کی رفتار تیز ہو جائے گی ۔ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کم ہو جائیں گے۔ سیلاب کا سد باب ہو گا اور آئندہ عوام کو سیلاب کی وجہ سے جانی و مالی نقصان نہیں اٹھانا پڑے گا۔

Reduction in Inflation

مہنگائی میں کمی

  1. Taxes will be announced only once during budget in the month of June every year. And no tax will be announce over the year.
  2. In the budget yearly prices for all agricultural commodities, utility bills, food, essential household items, gold, silver, petroleum product etc. will be announced for a year and those will not be changed over the year.
  3. All needed items enough for at least one year will be stored and placed in each national constituency or Union Council. And to ensure that all items will be available in each Union Council.
  4. Only excess items after the essential stock will be allowed to export worldwide.
  5. Reduction of the taxes and government expenses to be priorities instead of introduction of new taxes.
  1. سال میں صرف ایک دفعہ جون کے مہینہ میں بجٹ پیش کیا جائے گا اور سال کے دوران کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا۔
  2. بجٹ میں تمام زرعی اجناس ، یوٹیلیٹی بلز، کھانے پینے کی اشیاء، گھریلو ضروری اشیاء،سونا چاندی ، پیٹرولیم مصنوعات  کی قیمتیں ایک سال کیلئے مقرر کی جائیں گی۔ سال کے دوران یہ تبدیل نہیں ہونگی۔
  3. ملکی ضرورت کی تمام اشیاء کا کم از کم ایک سال کا ذخیرہ یا سٹاک ہر قومی حلقہ یا ہریونین  کونسل میں رکھا جائے گا۔ ہریونین کونسل میں تمام اشیاء کا میسر ہونا یقینی بنایا جائے گا۔
  4. اشیاء ضروری سٹاک سے زائد ہونے پر ہی ایکسپورٹ کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
  5. نئے ٹیکس متعارف کروانے کی بجائے پہلے سے موجود ٹیکس کم کر کے حکومتی اخراجات کم کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔

End of Crimes

جرائم کا خاتمہ

  مجرم  کی بجائے جرم ختم کریں گے، رشوت خور افراد کی بجائے رشوت ستانی ختم کریں گے،کرپٹ افراد کی بجائے کرپشن ختم کریں گے۔  برے افراد کے ساتھ بھی اچھا سلوک کریں گے۔ ہر مجرم کے ساتھ عدل و احسان کو ترجیح دی جائے گی۔ کسی فرد سے بھی زیادتی نہ ہونے کی گارنٹی ہو گی۔یہ ان کیلئے ہے جو اللہ کی حدوں کو پار نہیں کرتے۔

اگر کوئی فرد اللہ کی حدوں کو پار کرتاہے تو اس کیلئے جو سزا اللہ نے مقرر کی ہے وہی سزا دی جائے گی۔ یہ سزا کوئی تبدیل یا معاف نہیں کر سکتا۔ کسی بھی فردیا عہدہ  کیلئے عدالتی استثنا نہیں ۔

ہر جج کو آئین کے طور پر قرآن مجید دیا جائے گا جس کے مطابق فیصلہ کرنے میں وہ آزاد ہو گا۔ 

کوئی بھی عہدیدار بشمول ملک کا سربراہ  اللہ  اور اسکے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  کی مقرر کردہ سزاؤں میں سے کسی کو بھی تبدیل یا معاف نہیں کر سکتا۔ 

 

ملکی بیرونی قرضہ جات کا خاتمہ

  تمام غیر ملکی اداروں و حکومتوں سے عوام کے نام پر قرض لینا ممنوع قرار دیں گے ۔ بضرورت ملکی بینکوں سے بلا سود قرض لیا جائے گا۔
  تمام سرکاری و عوامی عہدیداروں کے قرض لینے کے کوٹے ختم کریں گے البتہ عوام میں سے کوئی بھی  بضرورت  بلا سود قرض لے سکتا ہے۔
  تمام اداروں میں آفیسر کم اور ورکر بڑھائیں گے۔ اکژ اشیاء ملک میں تیار کی جائیں گی تا کہ امپورٹ کا حجم کم ہو ۔ بیرونی دوروں کی بجائے سفیروں سے کام لیں گے۔ ہر عہدہ  کیلئے قابل افراد کو چننا لازمی قرار دیں گے۔
  ملک میں تیار ہونے والی اشیاء، مہنگی، بلا ضرورت اشیاء امپورٹ کرنا،  اداروں میں ضرورت سے زائد افراد کو بھرتی کرنا ،  غیر ملکوں سے انشورنس کروانا ممنوع قرار دیں گے۔
  تمام زمین ریاست کی ملکیت ہے اور ہر کسی کو عارضی ملکیت کیلئے ہر سال ریاست کو ٹیکس دینا ہو گا۔وفاق، صوبہ، ڈویژن،ضلع، تحصیل ، یونین کونسل وغیرہ  ریاست کے یونٹ  ہوتے ہیں۔
 

فری صحت و علاج معالجہ

  ہر زخمی یا بیمار فرد کو طبی امداد دے کر اس کی جان بچائی جائے گی۔ عورتوں، بچوں، بزرگوں کی نگہداشت کا بہتر انتظام کیا جائے گا۔
  گونگے، بہرے، اندھے،  مجنوں، معذور، ہجرے،  مسکین، غریب، یتیم، بزرگ افرادکی خوراک، لباس، تعلیم، مکان، شادی، روزگار، وظیفہ کے ذریعے مدد کریں گے۔ 
  ہر محلہ میں فری ڈسپنسری، ہر یونین کونسل میں فری ہسپتال، ہر قومی حلقہ میں فری میڈیکل کالج ہو گا۔ ہر یونین کونسل میں صفائی کا بہتر انتظام کریں گے  تا کہ بیماریوں کی روک تھام ہو۔
  تازہ خوراک،صاف پانی،  جڑی بوٹیاں،حکماء،  ادویات،سرجن،  مشنری،  اوزار، ڈاکٹر، نرسس ، دائی کا ہر محلہ  میں میسر ہونا یقینی بنایا جائے گا۔
 

وسائل کی منصفانہ تقسیم

  ملکی آمدنی جمع کرنے کی ذمہ داری وفاق کی ہو گی جبکہ  تمام ملکی آمدنی متعلقہ تحصیل  یعنی قومی حلقہ کے ریوینیو اکاؤنٹ میں جمع ہو گی۔
  ہر ماہ تحصیل کے ریوینیو اکاؤنٹ سے وفاق  پچیس فیصد، ضلع پچیس فیصد، تحصیل پچاس فیصد تقسیم ہو کر انکے منجمد اکاؤنٹ میں جمع ہو گی۔
  ہر سال تیس جون کو منجمد اکاؤنٹس میں جمع شدہ رقم وفاق، ضلع، تحصیل  کے کرنٹ  اکاؤنٹ میں جمع ہو گی جوکہ متعلقہ انتظامیہ، مقننہ و عدلیہ میں تقسیم ہو گی۔
  پہلا سال ہم سب کے لئے کٹھن ہو گا۔کچھ سالوں کے اندر ہم اپنے ملک کا قرضہ بھی اتار پائیں گے اور ملک بھی ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا۔ انشا ء اللہ۔ 
  کسی بھی ریوینیو یا منجمد اکاؤنٹ میں سے کوئی بھی حالیہ سال کے درمیان رقم نہیں نکال سکتا اور کرنٹ اکاؤنٹ کی رقم سے  ایک سال کے اخراجات پورے کر نا ہونگے۔ 
 

ناخواندگی میں کمی

  تعلیم و تربیت  کو آسان بنایا جائے گا ۔ تدریسی و فنی تعلیم بالکل مفت ہو گی۔طالب علموں کو ضرورت کی تمام اشیاء مفت فراہم کرنے کا انتظام کیا جائے گا۔ تعلیم تین زبانوں اردو، انگلش، عربی  میں ہو گی۔
  تعلیم کےتین لیول پرائمری ، میٹرک،گریجویشن ہونگے جبکہ  ہر لیول کا دورانیہ سات سال ہو گا۔
  تعلیم کا نصاب ملکی اداروں کی بنیاد پر ہو گا جو کہ ہر ادارہ کا مصنف سیکشن پانچ سال کیلئے تیار کرے گا۔ہر قومی حلقہ میں گریجویشن و میٹرک کا بورڈ ہو گا اور ہر انتظامی یونٹ میں یونیورسٹی۔
  پرائمری لیول میں تین زبانوں اردو، انگلش، عربی کی بنیادی  تعلیم دی جائے گی۔ میٹرک لیول میں تمام اداروں کی بنیادی تعلیم دی جائے گی۔ گریجویشن میں طالب علم خود چنے گا کہ کس مضمون میں تحقیقی تعلیم حاصل کرنی ہے۔
  میٹرک تک تعلیم ہر پاکستانی کیلئے لازمی ہو گی۔سردیوں اور گرمیوں کی تین ماہ کی بجائے صرف پندرہ دن کی چھٹیاں ہونگی۔تمام تعلیمی اداروں میں اتوار کی بجائے جمعہ کو چھٹی ہوگی۔ حکومت ہر گریجویٹ  طالب علم کو روزگار مہیا کرنے کی ذمہ دار ہو گی۔ 
 

بنیادی اداروں کی تشکیل نو

  تین بنیادی ادارے مقننہ (قومی اسمبلی)، انتظامیہ (سینٹ) اور عدلیہ (سپریم کورٹ) کو تشکیل دیں گے۔ ایک فردصرف ایک ہی ادارہ کا رکن  بنے گا۔
  ہر ادارہ کے مراتب عہدہ و مراعات ، اختیارات، رولز اینڈ ریگولیشن آئین پاکستان میں تحریر کرکے ان پر عملدرآمد یقینی بنائیں گے۔  القرآن الحکیم کو آئین پاکستان کی بنیاد  اور اسکے اصولوں پر عمل لازمی قرار دیں گے۔
  قومی سلامتی کونسل  بھی تشکیل دی جائے گی جس کا چیئرمین ملک کا سربراہ یعنی سینٹ کا سربراہ  ہو گا۔قومی اسمبلی کا سربراہ، عدلیہ  کاسربراہ،ہر انتظامی یونٹ کے مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ  سربراہان،  تمام وفاقی حکومتی اداروں کے سربراہان  اس کے رکن ہونگے۔ ایک فرد صرف ایک عہدہ کیلئے رکن ہو گا۔
 

انتظامی یونٹ اور وفاقی اداروں کا قیام

  ملک کو چار انتظامی لیول میں تقسیم کریں گے۔ وفاق، ضلع، تحصیل، یونین کونسل۔ صوبہ اور ڈویژن کے انتظامی یونٹ  نہیں ہونگے۔ قومی حلقہ کو تحصیل کا درجہ دیں گےاور اکثرذمہ داریاں  و اختیارات تحصیل کے سپرد کریں گے۔ 
  بیس انتظامی یونٹ یا  اضلاع اسلام آباد، سیالکوٹ، سرگودھا، فیصل آباد، لاہور،  بہاولپور،  ملتان، سکھر، حیدرآباد، کراچی، کوئٹہ، خضدار، گوادر، ژوب، پشاور، سوات، ایبٹ آباد،ڈیرہ اسماعیل خان، گلگت، آزاد کشمیر بنائیں گے، بنیاد صرف انتظامی  ہوگی۔
  بیس وفاقی حکومتی ادارے   دفاع،  مالیہ،  سائنسی ٹیکنالوجی،  صنعت و تجارت، خوراک زراعت و مویشی، قدرتی وسائل، صحت، تعلیم، ربط، پولیس و رینجرز، توانائی و سپلائی، اطلاعات و نشریات، ہائی ویز تعمیرو نکاسی آب، انسانی حقوق و انصاف، کھیل و ثقافت، ڈاک و اندراج، شریعت، کمیشن، داخلہ، خارجہ تشکیل دیں گے۔ ایک دفعہ تشکیل کے بعد کوئی بھی وفاقی ادارہ ختم کرنا، نیا بنانا، تبدیل کرنا ممنوع ہو گا۔
 

انصاف و برابری

  پارٹی ملک کے مختلف علاقوں اور اداروں میں حق و انصاف کے ساتھ مال ، طاقت اور ذمہ داریوں کو تقسیم کر کے، ذات پات، رنگ، فرقہ، جنس، مذہب، زبان کا امتیاز ختم کر کے، تمام پاکستانی لوگوں کو یکساں معاشرتی، معاشی مواقع دے کر، ملک کی بنیادوں کو مضبوط بنائے گی۔
  کسی بھی زخمی یا بیمار فرد کا حق ہے اسے طبی امداد دے کر اس کی جان بچائی جائے چاہے وہ مجرم ، گناہگار ، کرپٹ ہو۔ کسی بھی غریب کا حق ہے کہ اسے خوراک کھلا کر، کپڑے بہنا بر، تعلیم دلوا کر، رہنے کیلئے مکان مہیا کر کے، اس کی شادی کر کے، اسے روزگار دلوا کے اس کی مدد کی جائے۔ تمام ملکی ادارے ملکی عوام کے ملازم ہیں اور کسی بھی آفیسر کو کوئی پروٹوکول نہیں دیا جائے گا۔ کسی بھی فرد کی معطلی، خارجی یا منتقلی یا آڈٹ ایک کونسل کرے گی نہ کہ ایک فرد۔ ایک فرد کی خارجی یا ریٹارئرمنٹ کے بعد سنئر ترین فرد اس کے عہدے کا حقدار ہے۔
  ہر پاکستانی 18 سے 65 سال کی عمر کے فرد کو کام کرنا ہو گا یہ تعلیم حاصل کرنا ہو گی کوئی فارغ نہیں رہے گا۔ ہر پاکستانی فرد کو کم از کم 25 سال تک کوئی حکومت یا پرائیویٹ کام کر نا ہو گا تا کہ 65 سال کی عمر کے بعد اسے پنشن مل سکے۔ عورت کیلئے 25 سال تک کام کرنا ضروری نہیں لیکن شادی ضروری ہے۔ 65 سال عمر کے بعد ہر آفیسر یا ملازم تمام اداروں سے ریٹائر ہو جائے گا اورتا حیات پنشن حاصل کرے گا۔
  کوئی بھی ملازم یا آفیسر کو اسکے عہدے سے بغیر کسی شکایت کے خارج نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ اس کے متعلق شکایت عدالت میں آڈٹ کمیشن داخل نہ کرے۔ اس فرد کو اس کے خلاف شکایت یا الزام کے بارے میں وجہ بیان کرنے میں مناسب موقع دیا جائے گا۔ جب تک اس کا کیس ختم نہیں ہوتا اسے معطل، خارج یا ریٹائر نہیں کیا جا سکتا۔ اگر عدالت میں اسکے خلاف الزام ثابت ہو جائے تو اسے خارج کر کے عدالت کے فیصلے کے مطابق سزا دی جائے گي۔ چھوٹے مقدمات میں  عدالت میں وکیل  کو ہونا لازمی نہیں ہو گا۔
 

آئين پاکستان کی ساخت

  آئین پاکستان میں تین بنیادی اداروں کو الگ الگ کیا جائے مقننہ یعنی قومی اسمبلی، عدلیہ یعنی سپریم کورٹ اور انتظامیہ یعنی سینٹ تاکہ ایک فرد صرف ایک ہی ادارے کا رکن بن سکے۔
  آئین پاکستان میں ملکی حکومت اور اس کے اداروں کی مکمل ساخت ہو۔
  آئین پاکستان میں ملک کے تمام اداروں کیلئے یکساں مراتب، مساوی ذمہ داریاں، مساوی سہولیات موجود ہوں مزید ایک ذمہ داری کیلئے ایک ہی فرد ہو۔
  آئین پاکستان میں موجود ہو کہ کسی بھی ادارے کا سربراہ اس ادارے کی تمام سرگرمیوں کا ذمہ دار ہو گا مزید ہر ادارہ اپنی کارکردگی کی رپورٹ ہر تین ماہ بعد پاکستانی عوام کے سامنے پیش کرے گا۔
  آئین پاکستان میں موجود ہو کہ تمام ملکی آمدنی، عطیات، ٹیکس وغیرہ متعلقہ تحصیل کے ریوینیو اکاؤنٹ میں جمع ہوگی اور وفاق، ضلع، تحصیل میں سالانہ تقسیم ہو کر انکے منجمد اکاؤنٹ میں جمع ہونگے۔ سال گزرنے کے بعد منجمد اکاؤنٹ سے کرنٹ اکاؤنٹ میں منتقل ہو نگے اور مقننہ اکاؤنٹ، انتظامیہ اکاؤنٹ اور عدلیہ اکاؤنٹ میں ایک سال کے استعمال کیلئے جمع ہونگے۔ کسی بھی ریوینیو اور منجمد اکاؤنٹ میں سے کوئی بھی حالیہ سال کے درمیان رقم نہیں نکال سکتا۔ مزید بیرونی اور اندرونی طور پر عوامی قرض لینا اور دینا ممنوع ہو گا۔
  تمام ضلعی اسمبلیاں ملکر قومی اسمبلی بنے گی یعنی ضلع اسمبلی کی رکن قومی اسمبلی کے بھی رکن ہونگے۔
  عدلیہ، سینٹ، حکومتی آزاد ادارے، یہاں تک کہ ایک ووٹر بھی قومی اسمبلی کو ئی قانون بنانے کیلئے درخواست دے سکتا ہے اور اسے قانون بنانا ہو گا نہیں توقانون نہ بنانے کی کوئی مناسب وجہ بیان کرنا ہو گی۔
  الیکشن میں حصہ لینے کیلئے ہر شخص کو سروسز کمیشن سے اہلیت کا سرٹیفیکیٹ لینا ہو گا۔
  جج ضلع عدالت کا چیف جسٹس پانچ سال رہنے کی بعد خود بخود سپریم کورٹ کا جج بن جا ئے گا۔ مملکت کا سربراہ ان میں سے ایک کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرے گا۔ سپریم کورٹ کے بیس  جج ہونگے ہر ضلع سے ایک۔
  صدر پاکستان مملکت کا سربراہ ہوگا اور حکومت کا سربراہ بھی۔ وہ پاکستانی عوام کے کھلے ووٹ سے براہ راست چنا جائے گا۔
  ہر ضلع اسمبلی حکومتی اداروں کیلئے افراد نامزد کرے گی ان میں سے صدر پاکستان وفاقی وزراء چنے گا۔ ہر ضلع سے کم ازکم ایک فرد اور ہر وزارت کیلئےصرف ایک فرد۔
  تمام وفاقی وزراء ملکر سینٹ بنے گی وہ مقننہ میں ووٹ نہیں دیں گے۔
  ضلعی انتظامیہ  بنیادی انسانی حقوق کی ذمہ دار ہو گی جیسے جان کی حفاظت، مفت صحت، مفت تعلیم، خوراک کی دستیابی، پانی، گھر، روزگار اور پنشن تمام بزرگ، یتیم، معذور کیلئے، ضلعی حکومت کا کوئی بھی فرد بشمول ناظم اپنے دفتر کے دروازے پر چوکیدار نہیں بٹھا سکتا تا کہ ہر پاکستانی شہری کی اس تک رسائی ہو۔
  حکومت کے ایک ادارے سے کوئی فرد اپنے سروس کے دوران سیاست میں حصہ نہیں لے سکتا بلکہ وہ ریٹائر منٹ یا استعفی کے بعد ہی سیاست میں حصہ لے سکتا ہے۔ قومی سلامتی کونسل کے تمام ارکان مسلم ہو نگے۔
 

مقاصد اور منازل

  پارٹی جمہوریت، آزادی، اتحاد، بھائی چارہ، دفاع اور حفاظت، طمانت، حق وصداقت، رواداری، انصاف و برابری کے متعلق دین اسلام کے اصولوں پر مضبوطی سےقائم رہے گی۔ 
  پارٹی ملک کے مختلف علاقوں اور اداروں میں حق و انصاف کے ساتھہ مال ، طاقت اور ذمہ داریوں کو تقسیم کر کے، ذات پات، رنگ، فرقہ، جنس، مذہب، زبان کا امتیاز ختم کر کے، تمام پاکستانی لوگوں کو یکساں معاشرتی، معاشی مواقع دے کر، ملک کی بنیادوں کو مضبوط بنائے گی۔
  پارٹی دوسرے اسلامی ممالک کے ساتھہ مشترکہ کرنسی، دفاع، دین، عدلیہ، خارجہ، تجارت کی بنیادوں پر اتحاد کے کوشش کرے گی۔
  پارٹی مارشل لاء، نظریہ ضرورت، بادشاہت اورعوام کے نام پر قرض لینااور دینا اور مختلف اداروں کی تحلیل اور دوسری حکومتوں یا ممالک کے ساتھہ خفیہ معاہدوں کی مزاحمت کرے گی۔  مزید تمام پیغمبروں کی یکساں عزت کرے گی۔
  پارٹی امن و امان، علاقائی طمانت، سیاسی ہم آہنگی اور جان، مال،عزت کی حفاظت علاقائی حکومت کو اکژ ذمہ داریاں سونپ کر یقینی بنائے گی۔ مزید علاقائی حکومت کے عہدیدار ہر وقت عوام کو میسر ہونے کو اور رسائی ہونے کو لازم قرار دیا جائے گا۔
  پارٹی لوگوں کو محنت مشقت کر کے روزی کمانے یا تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دے گی تا کہ کوئی بھی فرد فار‏غ نہ رہے۔
  پارٹی ملک کے تمام دریاؤں کا پانی سمندر میں گرنے سے پہلے بجلی پیدا کرکے بجلی کی کمی کو پورا کرے گی.
  پارٹی خوراک، غلہ، مویشی تمام علاقائی حکومتوں کے پاس ایک سال کی ضرورت سے زائد ہونے کے بعد ہی برآمد کو یقینی بنائی گی تا کہ بحران نہ آ سکے۔
  پارٹی کی منزل ہے کہ تعلیم، صحت اور وظیفہ سب کیلئے ہو۔تمام ضعیف، معذور، یتیم افراد کیلئے وظیفہ مقرر ہو جو بلا امتیاز سب پاکستانیوں کیلئے یکساں ہو۔ مزید اولاد اپنے ضعیف والدین کو گھر سے بے دخل کرنے کی بجائے ان کی خدمت کرے۔
  پارٹی کی منزل ہے کہ ملک کے اداروں کو ذمہ داریوں کے لحاظ سے مستقل طور پر تشکیل دے اور ان کی پائیداری یقینی بنائے تا کہ کوئی بھی علاقائی یا وفاقی گورنمنٹ اداروں کو ختم یا تحلیل نہ کرے یہاں تک کہ ادارہ کے سربراہ کو بھی مجبورّا استعفی نہ دینا پڑے۔
  پارٹی کی منزل ہے کہ پاکستان کی ہر یونین کونسل میں کم ازکم ایک فیکٹری ضرور ہو تا کہ روزگار بڑھے اور عوام بڑے شہروں میں منتقل ہونے کیلئے مجبور نہ ہوں۔
  پارٹی کی منزل ہے کہ روزگار سالانہ 5 فیصد بڑھے، بجلی کی پیداوار سالانہ 10 فیصد بڑھے، خواندگی سالانہ 10 فیصد بڑھے، مہنگائی سالانہ 5 فیصد کم ہو۔
  پارٹی کی منزل ہے کہ ہر یونین کونسل میں پیدا ہونے یا تیار کی جانے والی اشیاء دوسری یونین کونسلوں میں بھی بآسانی مل سکیں۔

Share on Facebook

Justice and Development Party Pakistan
Marala Road, Muradpur, Ferozcolony, Near Masjid Taiba, Sialkot.Pakistan
Phone: +92 52 4360012, Cell: 0301-3073371, 0315-7877610 Web: www.jadpp.com
Email: info@jadpp.com jdp.pakistan@gmail.com jadppak@gmail.com
Twitter: http://www.twitter.com/jadppak Whatsup: +92 315 7877610
Facebook Group: http://www.facebook.com/groups/jadpp/
Facebook Event: http://www.facebook.com/events/528552463828599/
Facebook Page: http://www.facebook.com/jadpp3